ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں ایک بدنام زمانہ دھوکے باز کشمیری اور اس کا ساتھی گرفتار

منگلورو میں ایک بدنام زمانہ دھوکے باز کشمیری اور اس کا ساتھی گرفتار

Sat, 24 Aug 2019 21:57:07    S.O. News Service

منگلورو 24/اگست (ایس او نیوز) منگلورو سٹی پولیس کمشنرنے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ برکے پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک بدنام زمانہ کشمیری دھوکے باز اور اس کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھی کشمیری دھوکے باز کا ساتھی ہوسکتا ہے۔

پولیس کمشنر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 17اگست کو دو افراد برکے پولیس اسٹیشن کے حدود میں مشکوک انداز میں کار میں سفر کرتے ہوئے پائے گئے۔ کار پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے کار روک کر جب تفتیش کی تو پتہ چلا کہ باسط شاہ (30سال) نامی شخص ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کے طور پر کار میں سفر کررہا تھا اور کار کو چلانے والے کا نام بلجیندر سنگھ تھا۔ شک کی بنیاد پر انہیں تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے پر یہ راز کھلا کہ باسط شاہ ڈبلیو ایچ او کا ڈائریکٹر نہیں تھا بلکہ ایک بدنام زمانہ دھوکے باز تھا، جو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کے بھیس میں لوگوں کو دھوکا اور فریب دے رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں باسط شاہ نے خود کو ممبئی کا رہنے والا بتایا تھا، لیکن پولیس کی تحقیق سے یہ ثابت ہو اکہ وہ کشمیری ہے اور اس کا اصلی نام شوکت احمد لون ہے اور وہ ایک عرصے سے ملک بھر میں مختلف شہروں میں گھوم پھر کر لوگوں کو دھوکا دیا کرتا ہے۔شوکت اپنا شادی کروانے والا ویب سائٹ چلاتا ہے، اور اس کے ذریعے گوا، ممبئی، چھتیس گڑھ، پنجاب، جھارکھنڈ اور بیلگام جیسے مقامات پر خواتین کا استحصال کرچکا ہے۔باسط عرف شوکت اس مرتبہ منگلورو میں شادی کروانے کے بہانے ایک لڑکی سے ملنے کے لئے پہنچا تھا۔ وہ ایک پُر تعیش زندگی گزارتا تھا، ہمیشہ کار میں سفر کرتا تھا۔ اور مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرتاتھا اس کے علاوہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایم بی بی ایس کی ڈگری کے ساتھ ڈاکٹری کا امتحان بھی پاس کیا ہے۔ بلجیندر سنگھ نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ دو سال سے20ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر باسط کے پاس بحیثیت ڈرائیورملازمت کررہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال کچھ اہم معلومات ظاہر کرنا نہیں چاہتی البتہ اس دھوکے باز کا شکار ہونے والے افراداور خاص کر کے خواتین پولیس سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔دونوں ملزمین کو پولیس نے عدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لئے اپنی کسٹڈی میں لے لیا ہے۔


Share: